مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کنست (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے اختتام کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ وہ انتخابات کے حقیقی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کی جماعت مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، جس کے باعث حکومت سازی کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
نتن یاہو نے اپنی تقریر میں 2023ء سے اب تک اپنی حکومت کی نام نہاد کامیابیوں کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے اپنے انتخابی اتحاد کی فتح کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنی جماعت لیکوڈ کو اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی، جس نے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کی توجہ ہٹانے کے لیے دائیں بازو کے رجحانات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دائیں بازو کا اتحاد بڑی اور مؤثر اکثریت رکھتا ہے اور ان کے پاس فیصلہ کن اکثریت موجود ہے۔ ان کے بقول، ایک مضبوط قومی حکومت تشکیل دینا ضروری ہے۔
نتن یاہو نے دعوی کیا کہ اسرائیل کو غیر صہیونی عرب جماعتوں کی فہرستوں پر مشتمل حکومت تشکیل دے کر خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
دوسری جانب، صہیونی حکومت کے انتخابات کے ابتدائی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ حزب اختلاف کا اتحاد نتن یاہو کے اتحاد سے آگے ہے۔ اس دوران مشترکہ عرب فہرست اور متحدہ عرب فہرست نے بھی پیش رفت کی ہے اور ان دونوں کو مجموعی طور پر 17 سے 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نتن یاہو نے مزید دعوی کیا کہ اسرائیل میں صہیونی اور یہودی اکثریت کو متحد رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، بعض سیاست دان اور ذرائع ابلاغ عرب جماعتوں کی فہرستوں پر مشتمل حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اور صورت حال کو معمول کے مطابق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے ان لاکھوں افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان پر اعتماد کیا اور کہا کہ ایک مضبوط، دائیں بازو اور قوم پرست حکومت تشکیل دینا ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ